آئندہ مالی سال کے لیے آبی وسائل کے ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
ذرائع کےمطابق وزارت آبی وسائل نےمجموعی طور پر 969 ارب روپے کےفنڈزکی ضرورت ظاہرکی تھی، تاہم حکومت کی جانب سےصرف 179 ارب روپے مختص کرنےکی تجویزدی گئی ہے،جسےماہرین "اونٹ کےمنہ میں زیرہ" قرار دےرہے ہیں۔
دستاویزات کےمطابق آئندہ سال کےترقیاتی بجٹ میں 41 جاری منصوبےشامل ہیں جبکہ صرف ایک نیا منصوبہ شامل کیاگیا،جودیامر بھاشا ڈیم سےبجلی کی پیداوارکی سہولت سےمتعلق ہے،اس منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کےمطابق دیامربھاشا ڈیم بجلی جنریشن فیسلیٹی کیلئے 50 کروڑ روپے،،ڈیم کیلئے 25 ارب روپے،زمین کے حصول کیلئے 7 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے،جبکہ داسو ہائیڈرو منصوبے کےلیےآئندہ بجٹ میں 25 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دستاویز کےمطابق آئندہ بجٹ میں مہمند ڈیم کے لیے 39 ارب روپے،مختص کرنےاوروارسک ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی مرمت پر 4 ارب 28 کروڑ روپےخرچ ہوں گے،کچھی کینال منصوبےکیلئے 50کروڑ،کراچی گریٹر واٹر سپلائی کیلئے 13 ارب تجویز ہے۔
اس کےعلاوہ دریائےسندھ پرٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کیلئے 5 ارب 76 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ منگلا ڈیم توسیع منصوبے کے لیے 4 ارب 59 کروڑ روپے،تربیلا پانچویں توسیع منصوبے کے لیے 3 ارب 40 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے،جبکہ داسو منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 1737 ارب روپےسے زائد ہے،دیامربھاشاڈیم کاتخمینہ 479ارب روپے،پاورہاؤس کی لاگت 174ارب روپے ہے،مہمند ڈیم کی لاگت کا ابتدائی تخمینہ 309 ارب روپے ہے۔




















