نئے مالی سال کے بجٹ میں خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو کے لئے ساڑھے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
پاک سیٹ ٹو سیٹلائٹ سسٹم اور جیو اے آئی ڈیویلپمنٹ حب کے دو نئے منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل ہوگئے۔ اگلے سال انسانی خلائی مشن کیلئے بھی ایک ارب 29 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق سپارکو کے 6 پرانے اور 2 نئے منصوبوں کی مجموعی لاگت 180 ارب ہے، پاکستان آپٹیکل ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ کیلئے ایک ارب 20 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے۔
ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ منصوبے کی مجموعی لاگت 19.59 ارب روپے ہے، پاکستان اسپیس سینٹر کے قیام پر ایک ارب 30 کروڑ خرچ کئے جائیں گے، اسپیس سینٹر منصوبے کی مجموعی لاگت 37.72 ارب روپے ہے۔
پاکستان کا اگلے سال انسانی خلائی مشن پر 1.29 ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے، دستاویز کے مطابق مینڈ اسپیس مشن منصوبے کی مجموعی لاگت 2 ارب 19 کروڑ روپے ہے، ڈیپ اسپیس اسٹرونومیکل کے قیام کیلئے 1.16 ارب روپے دینے کی تجویز ہے۔
ڈیپ اسپیس اسٹرونومیکل منصوبے کی مجموعی لاگت 5.20 ارب ہے، پاکستان ملٹی مشن کمیونیکیشن سیٹلائٹ کیلئے ساڑھے 14 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ملٹی مشن کمیونیکیشن سیٹلائٹ پر مجموعی طور پر 72.27 ارب خرچ ہوں گے، پاک سیٹ ٹو سیٹلائٹ سسٹم کا نیا منصوبہ اور جیو اے آئی ڈیویلپمنٹ حب کے قیام کا نیا منصوبہ بھی وفاقی ترقیاتی پلان میں شامل ہے، دونوں نئے منصوبوں کیلئے پی ایس ڈی پی میں 20 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔





















