نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافےکیلئےمختلف تجاویز تیار کرلی گئیں ہیں، تنخواہوں میں اضافہ وفاقی کابینہ اور آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تقریباً 10 فیصد اضافے کی تجویز زیرغور ہے،اسکے ساتھ ساتھ 2022 سے 2025 کےدوران دیےگئےچارایڈہاک الاؤنسزمیں سےایک کوبنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے۔
ذرائع کےمطابق تنخواہ دارطبقےکو ریلیف دینے کےلیےماہانہ ایک سےدو لاکھ روپے آمدن والے طبقے کو ریلیف دینے کی تجویزہے،اس کےعلاوہ گریڈ 20 سے 22 تک افسران کیلئے 50 سے 75 فیصد کنوینس الاؤنس میں اضافے کی تجویز ہے،جبکہ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کیلئے ڈسپیرٹی الاؤنس کی بھی تجویز ہے، پنشنرز کیلئے دو سال کی اوسطا مہنگائی کے تناسب سے 80 فیصد تک اضافے کی تجویز ہے
ذرائع کےمطابق سالانہ 12 لاکھ سے22 لاکھ روپےتنخواہ والے طبقے کیلئے انکم ٹیکس میں کمی متوقع ہے، تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس ریلیف پر آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں،اس کے علاوہ آئندہ مالی سال سے آرمڈ فورسز کو کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے، تنخواہوں اور پنشن سےمتعلق تجاویز پروزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو اعتمادمیں لیا جائےگا،پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کےباعث گریڈ 1 سے 19 تک کنوینس الاؤنس میں دوگنا اضافےکی تجویز ہے۔




















