پاکستان کے سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پاکستان میں آن شور کے بعد آف شور تیل و گیس کی دریافت کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی بڑی توانائی کمپنیاں جلد گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا باضابطہ آغاز کریں گی۔
پی پی ایل کے خط کے مطابق پی پی ایل، او جی ڈی سی ایل اور دیگر شراکت دار کمپنیاں مجموعی طور پر سمندر میں 8 مختلف مقامات پر تلاش کا کام کریں گی۔ تیل وگیس کی تلاش کے لیےسندھ اور بلوچستان کے مختلف سمندری علاقوں میں بلاکس کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
پی پی ایل گھارو کریک اور کوچی کریک میں بطور آپریٹر تیل و گیس کی تلاش کرے گی۔ جبکہ شراکت دار کمپنیاں بن قاسم ساؤتھ، کے ٹی بندر اور بحرِ ضرار بلاکس میں کام کریں گی۔اسی طرح آف شور ڈیپ سی اور سپٹ بندر بلاکس پر بھی شراکت داری کی بنیاد پر سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
او جی ڈی سی ایل دو بلاکس میں بطور آپریٹر جبکہ 6 بلاکس میں شراکت داری کے تحت کام کرے گی۔حکام کے مطابق اس پیشرفت سے ملک میں توانائی کے نئے ذخائر دریافت ہونے کے امکانات میں اضافہ متوقع ہے۔





















