سعودی ہیریٹج کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ مملکت کے القصیم ریجن میں عباسی دور میں بننے والے سونے کے ایک سو کے قریب زیورات دریافت ہوئے ہیں۔ قدیم نوادرات پر مشتمل یہ زیورات سجاوٹ کا ایک مکمل سیٹ ہے جسے ایسے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ پھولوں کی طرح دکھائی دے جبکہ زیورات میں سونے کے فریموں کے اندر نگینے جڑے گئے تھے۔
زیوارت میں بڑے سائز کا ایک گول ٹکڑا بھی ہے جس کے وسطی حصے میں ایک خاص ترتیب کے ساتھ رنگ برنگے نگینے نصب ہیں۔ اس کے علاوہ زیورات میں کئی رنگوں پر مشتمل تسبیحات اور ان میں فاصلہ قائم رکھنے کے لیے سونے کے نازک لیکن بڑے سائز کے سپیسر بھی شامل ہیں۔
ان زیورات کو بنانے میں ہتھوڑے کو استعمال کیا گیا ہے اور سونے کی پرتوں پر ہاتھ سے شکل دینے والی تکنیک استعمال ہوئی ہے۔ سونے کی پلیٹوں پر فریم موجود ہیں جن میں سجاوٹ کے لیے کہیں دباؤ اور کہیں نگینوں کو استعمال کیا گیا ہے۔
یہ زیورات کمیشن کی طرف سے آثارِ قدیمہ کے چوتھے سروے اور کھدائی کے منصوبے کے دوران ضریہ میں ایک سائٹ سے ملے ہیں۔ سعودی ہیٹریج کمیشن کے سی ای او ڈاکٹر جاسر سلیمان الحربش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ضریہ میں ہونے والی یہ دریافت، مملکت کے ثقافتی ورثے کی کثرت کی دلیل ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ طویل عرصے تک تجارتی راہوں اور ثقافتی تبادلوں کے لیے مملکت کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔





















