وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ کہا کراچی، حیدرآباد اور سکھر موٹروے سب سے اہم منصوبہ ہے۔ تمام اہم مواصلاتی منصوبوں کی اگلے دو سال میں تکمیل چاہتے ہیں۔
پاکستان کے مواصلاتی شعبے میں عالمی مالیاتی اداروں کی دلچسپی بڑھنے لگی۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے وائس پریزیڈنٹ اور بینک کی ڈائریکٹر جنرل کی وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کی۔ جاری اور مجوزہ موٹرویز منصوبوں، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی بات چیت کی۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ حکومت بڑے مواصلاتی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل چاہتی ہے۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے ساتھ شراکت داری اس عمل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
وفاقی وزیرمواصلات نے کراچی، حیدرآباد اور سکھر موٹروے کو پاکستان کی معیشت کیلئے اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بندرگاہوں سے تجارتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ سے منسلک موٹروے 8 لین جبکہ حیدرآباد تا سکھر موٹروے 6 لین پر مشتمل ہوگی۔
لاہور، سیالکوٹ اور کھاریاں راولپنڈی موٹروے منصوبے بھی آئندہ دو سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔اس سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ 100 کلومیٹر جبکہ سفر کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ کم ہوجائے گا۔ اس سے سالانہ اربوں روپے کے ایندھن کی بچت ہوگی۔ تجارتی اور سفری سرگرمیوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ کے تعاون سے موٹرویز پر ایئر ایمبولینس سروس اور جدید ٹراما سینٹرز کے قیام پر بھی کام جاری ہے تاکہ حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔
ملاقات میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے وفد نے این ایچ اے کے ساتھ اشتراک میں دلچسپی کا اظہار کیا ۔ وفاقی وزیر نے وفد کو مکمل ہونے والے منصوبوں کے دورے کی دعوت بھی دی۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے وائس پریذیڈنٹ کا کہنا تھا کہ ان کا دورہ پاکستان خوشگوار رہا۔ انہوں نے لاہور کے دورے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔






















