ٹک ٹاکر ثنایوسف قتل کیس میں عدالت نےمجرم عمر حیات کوسزائےموت سنا دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نےکیس کامحفوظ فیصلہ سنایا،عدالت نےمجرم کو قتل کے جرم میں سزائے موت کے ساتھ 10 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔
عدالت نے ملزم عمرحیات کو ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 سال قید،گھرمیں گھسنے کی دفعات کے تحت 10 سال قید کی سزا سنائی۔
ثنا یوسف کے والداوروالدہ بھی عدالت میں موجود تھے،اس کے علاوہ پراسیکیوٹرراجا نوید حسین اور ثنا یوسف کےوکیل سردارقدیر بھی موجود تھے۔
ثنا یوسف کےوکیل نےعدالت کےباہرمیڈیا سےگفتگو کرتےہوئےکہا 8ماہ سے زائد عرصہ یہ کیس چلا،ہائیکورٹ میں دو بار گئے،اسلام آبادہائیکورٹ نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا،سیشن جج ناصر جاوید نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دیا،کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں،جج صاحب نےہمت کا مظاہرہ کیا،تاخیری حربوں میں نہیں آئے،جس معصوم بچی کا خون بہا، آج ان کو انصاف ملا۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر نےکہاقانونی تقاضےپورےکرکے ٹرائل چلایا،چشم دیدگواہ والدہ اورپھوپھی نےبھی عدالت میں بیان دیا،ملزم کی شناخت پریڈ میں اسے گواہان نے شناخت کردیا،ملزم کے اقبالی بیان نے بھی ہمارے مؤقف کو درست ثابت کیا،ان کے گھر میں ایک شیشہ تھا، اس سے فنگر پرنٹس ملزم کے تھے،ٹرائل میں ملزم اپنا کوئی دفاع پیش نہیں کرسکا، فیصلہ اچھا اور خوش آئند ہے،ایسے فیصلے سے کوئی کسی کے گھر میں گھس کر اس طرح نہیں کرے گا
ٹک ٹاکرثناء یوسف کو 2 جون 2025 کو گھر میں قتل کیا گیا تھا
3 جون کو پولیس نےثناء یوسف کےقاتل کو جڑانوالہ سےگرفتار کیا،13 جون کوشناخت پریڈ میں چشم دید گواہان نےملزم عمرحیات کوشناخت کیا،حکومت نے راجا نوید حسین کیانی کو اسپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیا،قتل کیس میں مجموعی طور پر 50سے زائد سماعتیں ہوئیں،چالان میں ابتدائی طور پر 31 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی تھی،پراسیکیوشن نے بعد میں 4 گواہان کو ترک کردیا،27 نے گواہی دی،عمرحیات جڑانوالہ والا کا رہائشی ہے،20ستمبرکو فرد جرم عائد ہوئی،25 ستمبرکو استغاثہ کے پہلے گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا،ہائیکورٹ کے حکم پر 2 ہفتے سے زائد وقت کیلئے ٹرائل رکا رہا،مقدمے کا ٹرائل مکمل ہونے پر آج ہی فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔





















