پارلیمنٹ لاجز میں نصب خودکار لفٹیں انسانی زندگی کیلئے باعث خطرہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، سی ڈی اے حکام نے تصدیق کی کہ لفٹیں قابل بھروسہ نہیں،ان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں البتہ اس کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ رکن کمیٹی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ لفٹ میں بیٹھنے سے قبل سب کو خدا خافط کہہ دینا چاہیئے۔
قومی اسمبلی کی ہاؤس اینڈ لائبریری کمیٹی کے اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز کی لفٹوں کا معاملہ زیر بحث آیا۔ سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ سات نئی لفٹوں کیلئے ساڑھے چوبیس کروڑ روپے درکار ہیں ۔۔ پارلیمنٹ لاجز کی پرانی لفٹیں اپنی زندگی پوری کرچکی ہیں۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کی حفاظت لازمی ہے۔ کچھ دن قبل بھی پارلیمنٹ کی لفٹ بند ہوگئی تھی۔ سید آمنہ بتول نے لفٹ کی بجائے سیڑھی استمال کرنے کا مشورہ دے دیا۔۔ چیئرمین کمیٹی غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ اکیاون ارکان کے پاس پارلیمنٹ لاجز میں رہائش نہیں۔ اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کی نشاندہی کرنے پر چئیرمین کمیٹی نے رپورٹ طلب کرلی ۔ دوران اجلاس بتایا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں اے سی لگانے کے لئے ڈھائی ارب روپے خرچ ہوں گے۔





















