امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگیستھ نے پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران کی 6 بحری جہازوں نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، امریکی نیوی نے ایرانی جہازوں کو واپس مڑنے پرمجبور کیا، اس سمندری گزرگاہ کی ہم سے زیادہ دنیا کو ضرورت ہے، پروجیکٹ فریڈم جاری ہے، تجارتی آمدورفت بحال ہو رہی ہے،
انہوں نے کہا کہ سینٹ کام اور اتحادی ممالک سینکڑوں شپنگ کمپنیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں،ایران نے تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو اسے شدید عسکری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا،یہ امریکا کے لیے ایک عارضی مشن ہے،ہم دنیا سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنا کردار ادا کرے،امریکا توقع رکھتا ہے کہ مناسب وقت پر دنیا آگے بڑھے۔
جنرل ڈین کین کا کہناتھا کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر ہم نے اتوار کو پروجیکٹ فریڈم کا آغاز کیا، پروجیکٹ فریڈم کا مقصد آبنائے ہرمز پر تجارتی نقل و حمل کی بحالی ہے،ایرانی کی چھوٹی کشتیوں اور ڈرونز سےنمٹ رہے ہیں، ناکہ بندی میں امریکا کے 15 ہزار اہلکار حصہ لے رہے ہیں، آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے 22 ہزار 500 ملاح پھنسے ہوئے ہیں، ایران اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم ایران کی کارروائی اس حد تک نہیں پہنچی کہ جنگ دوبارہ شروع کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کیلئے مکمل تیار ہیں، تجارتی جہازوں کو سمندر اور فضا سے سیکیورٹی فراہم کی جائے گی،آنے والے دنوں میں مزید بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزریں گے۔





















