امریکی میڈیا کے مطابق ایران جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو اپنا جدید فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا اور اس کے ساتھ اسے چلانے کے لیے فوجی اہلکار بھی تعینات کیے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ اسرائیل نے اپنا یہ دفاعی نظام کسی دوسرے ملک کو فراہم کیا۔ جنگ کے دوران آئرن ڈوم کی اس غیر معمولی تعیناتی کو پہلے کبھی منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔
اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران نے یو اے ای پر تقریباً 550 بیلسٹک اور کروز میزائل اور دو ہزار 200 سے زائد ڈرون داغے۔ ان میں سے زیادہ تر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم کچھ میزائل اور ڈرون ملک کے فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔ ان شدید حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات نے اپنے اتحادیوں سے مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ اسرائیل نے آئرن ڈوم سسٹم کسی دوسرے ملک کو فراہم کیا، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے علاوہ متحدہ عرب امارات پہلا ملک بنا جہاں اس نظام کو استعمال کیا گیا۔





















