ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران ہمیشہ سے بات چیت اور معاہدے کا خیرمقدم کرتا آیا ہے مگر وعدہ خلافیاں ناکہ بندی اور دھمکیاں حقیقی مذاکرات میں رکاوٹ ہیں۔
ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران ہمیشہ سے بات چیت اور معاہدے کا خیرمقدم کرتا آیا ہے، دنیا آپ کے بیانات اور دعوؤں میں تضاد کو دیکھ رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ طباطبائی نے ایرانی قیادت میں تقسیم کی باتیں جھوٹ قرار دے دیں، کہا دشمن سیاسی پروپیگنڈا کررہا ہے۔ ہمیں تقسیم نہیں کرسکتا ۔ صدرٹرمپ ایرانی قیادت میں تقسیم کا جھوٹ پھیلانے کی بجائے وعدوں کی پاسداری یقینی بنائیں۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت قابلِ قبول ہے جب سمندری ناکا بندی نہ ہو، جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ناممکن ہے، آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کےلیے پاکستان سفارتی محاذ پر بدستور متحرک ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں غیرمعینہ مدت کیلئے توسیع نے نئی اُمید پیدا کر دی ہے۔ ایران کو بات چیت پر آمادہ کرنے کیلئے پاکستانی قیادت کی ملاقاتیں اور ٹیلی فونک رابطے جاری ہیں۔






















