اوائل جوانی المعروف ٹین ایج میں جب یہ " کرنٹ افیئرز" والی اصطلاح سنتے تو سمجھتے تھے کہ کسی کے موجودہ افیئر کی بات ہورہی ہے کیونکہ ہمارے لئے اس وقت افیئر کا مطلب صرف لو افیئر ہی تھا وہ تو جب تھوڑا اخبار، رسالے وغیرہ پڑھنا شروع ہوئے تو پتا چلا کہ افیئرز صرف لڑکے ، لڑکیوں کے نہیں ملکوں ، معاشروں کے بھی ہوتے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے کرنٹ افیئرز یعنی حالات حاضرہ کی عمر 40 سے 50 سال کے درمیان ہے ۔
اب کوئی پوچھے یہ کیا بات کی ہے ،ذرا اس کو تفصیل سے سمجھائیں بھی تو سہی، یا پھر بات برائے بات کردی۔
توہولڈ آن پلیز، ابھی بلاگ باقی ہے ۔
کرنٹ افیئرز کی Definition کیمبرج ڈکشنری کے مطابق "سیاسی خبریں اور ایونٹس جو اس وقت وقوع پذیر ہورہےہیں"
چیٹ جی پی ٹی پر جب یہ سوال لکھا کہ What is Current Affairs تو اس نے جواب دیا
"کرنٹ افیئرز سے مراد ایسے اہم ایونٹس، ایشوز اور واقعات ہیں جو اس وقت وقوع پذیر ہورہے ہیں یا ماضی قریب میں ہوئے ہیں ، خاص طور پر وہ جن کے اثرات ، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس اور بین الاقوامی تعلقات پر ہوتے ہیں"
کرنٹ افیئرز کو اردو میں حالات حاضرہ کہتے ہیں اور حالات حاضرہ کے جو معنی ریختا ڈکشنری نے موجودہ حالات، موجودہ معاملات بتائے اور ساتھ ہی سعادت عابدی صاحب کا ایک شعر بھی نذر کردیا
حالات حاضرہ کی نظر ہے بہت عمیق، حالات حاضرہ سے بچے کا نہ تو نہ میں
چیٹ جی پی ٹی سے جب پوچھا کہ حالات حاضرہ کی اہمیت کیا ہے ، مثالیں دیکر واضح کریں ؟ تو جواب تھا
"حالات حاضرہ جاننے سے انسان باخبر رہتا ہے ، امتحانات میں مدد ملتی ہے جیسے سی ایس ایس، پی ایم ایس وغیرہ
بہتر فیصلے کرنے اور گفتگو میں حصہ لینے کی صلاحیت بڑھتی ہے"
چیٹ جی پی ٹی سے مثالیں دیں " جیسا کہ کسی ملک میں الیکشن ہونا، نئی ٹیکنالوجی کا متعارف ہونا، عالمی سطح پر کوئی بڑا معاہدہ یا تنا زع ہونا"
اگر اوپر بیان کی گئی تشریح اور مثالوں سے تو یہ ثابت ہوتا ہے ہمارے ملک سے متعلق کرنٹ افیئرز یا حالات حاضرہ گذشتہ 50 سال سے صرف ایک ہی ہیں
ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کرکے جنگ بندی کروانا۔
نہ آج تک کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوئی، کم ازکم میں نے اپنی 40 سالہ شعوری زندگی میں سوائے پانی سے گاڑی چلانے والی ٹیکنالوجی کے علاوہ کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوتے نہیں دیکھی
اور نہ کو ئی الیکشن ہوتے دیکھے، الیکشنز کا انعقاد ضرور ہوا، لیکن الیکشن مانے نہیں گئے، تو پھر مطلب نہ ہوئے
ویسے ایک ضیائی ریفرنڈم بھی ہوا تھا اسے بھی الیکشن کہیں گے؟
باقی حالات حاضرہ کو، بقول شاعردلاور فگار ، کئی سال ہوگئے، مطلب ہمارے جو حالات حاضرہ ہیں وہ کئی سال سے ہیں ، تو مثالیں حاضر ہیں؛
1971 کے بعد جتنے الیکشز ہوئے ، نہ نتائج مانے گئے، نہ اس کے نتیجے میں بننے والی حکومتوں عوامی حمایت رہی تو پھر نہ ہی ہوئے
آٹا مہنگا ہونےکی دہائی عوامی انقلابی شاعر حبیب جالب 50 سال پہلے دیتا تھا اور آج بھی وہی دہائی ہر ہفتے کی خبر ہے
چینی مہنگی کرنے پر بھٹو صاحب نے ایوب خان کے خلاف" ہائے ہائے "مہم چلائی ، 50 سال سے زائد ہوگئے، آج بھی مہنگی چینی ہائے ہائے ہی ہے
لوڈشیڈنگ، ایک انگریزی اخبار کی جنوری 1985 کی خبر کے مطابق لوڈشیڈنگ 1986 میں ختم ہوجائے گی
مکرر عرض حالات حاضرہ کو 40 ، 50سال ہوگئے۔۔
یہ ہوگئی" باخبریت" کی بات، اب آتے ہیں چیٹ جی پی ٹی کی حالات حاضرہ کی اہمیت کے دوسرے حصے یعنی امتحانات میں مدد ملنا یعنی سی ایس ایس وغیرہ تو میرانالج اس سلسلے میں ناقص ہے لیکن جو بڑوں سے سنا اسکے مطابق 70، 80 کی دہائی کے بعد سے سی ایس ایس کرکے آنے والے آفیسرز کا جو معیار چلا آرہا ہے اس سے کہیں بھی پتا نہیں چلتا کہ ان کو اس ملک اور معاشرے کے حقیقی حالات حاضر ہ کا کوئی ادراک بھی ہے
مثالیں دینے کی ضرورت نہیں، سوشل میڈیا دیکھنے والےبخوبی جانتے ہیں کہ آفیسرز اپنی کارکردگی دکھانے اور ٹک ٹاک بنانے کیلئے کس بے رحمی سے غریب پھل، سبزی فروشوں کی ریڑھیاں الٹاتے پھر رہے ہیں
حالات حاضرہ کی اہمیت کا تیسرا حصہ بہت ہی دلچسپ اور غورو فکر والا ہے یعنی
"بہتر فیصلے کرنے اور گفتگو میں حصہ لینے کی صلاحیت بڑھتی ہے"
بہتر فیصلے اور بہتر گفتگو کی صلاحیت ۔۔گذشتہ 50 سالوں میں الاما ن۔۔۔!! الحفیظ۔۔۔!!
پہلے بہتر فیصلے؛ بلوچستان پر چڑھائی، بھٹو کی پھانسی، افغان جہاد، 2،2 سال والی حکومتیں بنانا اور پھر گرا کر بنانا،
ہائے امریکہ بائے امریکہ، طالبان ہمارے بھائی ہیں، گڈ طالبان بیڈ طالبان۔۔۔بلاگ لکھ رہا ہوں کتاب نہیں
اور حالات حاضرہ کی اہمیت کا سب سے اہم حصہ"بہتر گفتگو کی صلاحیت"
ہمارے ورلڈ کپ کے ہیرو اور انکی یوتھ کی سوشل میڈیا والی گفتگو۔۔
اور آخر میں 40 ، 50 سال حالات حاضرہ کچھ کی مار کھاتے کچھ مخصوص وعدے، نعرے، جملے، فقرے،مصرعے،محاورے۔۔
ملک نازک دور سے گذر رہا ہے ، ملک دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، میلی آنکھ نکال دینگے، امریکہ کا جویار ہے غدار غدار ہے، قائد تیرے جانثار بے شمار بے شمار، لیکر رہیں گے آزادی، تیرا با پ بھی دے گا آزادی،قوم بیرونی دشمنوں کے خلاف متحد ہے ،ہندوستا ن ہمارا ازلی دشمن ہے، کشمیر ہماری شہ رگ ہے، فلسطینی ہمارے بھائی ہیں،شہد سے میٹھی سمندروں سے گہری ہمالیہ سے اونچی دوستی، ڈبل سواری بند،انٹرنیٹ بند،جلسے جلوس بند، شادی ہال بند، میڈیا آزاد ہے ،قانون ہاتھ میں لینے کی اجاز ت نہیں ، انصاف دہلیز پر ملے گا، کرپٹ عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، نوٹس لے لیا ، فول پروف سیکیورٹی،ہائی لیول تحقیقاتی کمیشن قائم، رٹ آ ف میرٹ قائم کریں گے، ہماری شرافت کو کمزور ی نہ سمجھا جائے، باہمی دلچسپی امور پر تبادلہ خیال، نئی تاریخ رقم،مہنگائی کے عذاب سے نجات دلائیں گے، لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے،
خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان کے کرنٹ افیئرز۔۔!!
ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے کرنٹ افیئرز یعنی حالات حاضرہ کی عمر 40 سے 50 سال کے درمیان ہے





















