سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو میں شائد کوئی ریٹائرڈ انڈین آفیسر ہم کہاں ہیں، ہم کہاں ہیں، کی تکرار کر رہے تھے ، اس کا سیدھا اور سادہ جواب ، آپ آنے والی تھاں ہیں۔۔
لیکن ملین ڈالر سوال کہ آپ یعنی انڈینز اس آنے والی تھاں پہنچےکیسے۔۔؟
اس کے پیچھے ایک داستاں ہے ، ایک تاریخ ہے ، ایک فلاسفی ہے
فلاسفی میری ہے، ایک سوچ ہے ، غلط بھی ہو سکتی ہے ،
کوئی اگر اس سے متفق نہیں تو بالکل ٹھیک لیکن غور ضرور کرے۔
تاریخ کی بات یہ ہے کہ بھارت میں مسلسل مذہبی انتہا پسندی کے فلسفے کی وجہ سے لیڈر شپ کوالٹی میں بتدریج کمی آتی گئی، فلاسفی یہ ہے کہ زمین کے ایک ٹکڑے پر مسلسل ایک ہی فصل کاشت کی جائے تو ایک وقت آتا ہے کہ وہ زمین اپنی زرخیزی کھو دیتی ہے، قدرتی طور پر زمین کی زر خیزی برقرار رکھنے کیلئے بدل بدل کر فصل کاشت کرنا ضروری ہے۔
اندازہ کریں کہاں سے شروع ہوئے مہاتما گاندھی ، پنڈت جواہر لال نہرو، لال بہادر شاستری ، اندرا گاندھی سے ہوتے ہوئے مودی جی چائے والا ۔۔ چائے والا ہو یا پان والا یا جیٹ والا ، اس سے فرق نہیں پڑتا ، فرق پڑتا ہے توڈلیوری سے، کون اپنے عوام کو کیا ڈلیور کرتا ہے؟
ترقی یا انتہا پسندی، نعرے یا روزگار، بدحالی یا خوشحالی، آزادی یا پابندی، عزت یا ذلت ۔۔
آخری بڑے قد کے لیڈر جو بھارت کو نصیب ہوئے وہ واجپائی صاحب تھے ، جمہوریت ہے تو بڑا زبردست نظام اگر پورےLetter and Spirit میں کام کرے، اگر جمہوریت کی آڑ میں فاشزم، غنڈہ گردی، بلیک میلنگ، دھونس، دھاندلی، لالچ، رشوت سے صرف الیکشن جیتے جائیں تو یہ بدترین بلکہ بدبو دار ترین نظام بن جاتاہے، یہ ایسے ہی جیسے کہ خالص شہد کا لیبل لگا کر شیرا بیچا جائے یا پھر سیکولر لیبل لگا کر ہندوتوا۔۔۔
اس سے بہتر تو پھر بادشاہت یا آمریت ہے کیونکہ بادشاہ یا آمر اچھا ہو یا برا ذمہ داری تو لیتا ہے
پاکستان کا کیس Curious اس لیئے ہے کہ وہاں جمہوریت اور آمریت آنکھ مچولی کھیلتی رہی، تھیوری کے حساب سے تو یہ غلط تھا لیکن پریکٹکل بات یہ ہے کہ اس کی وجہ سے دونوں فریقوں پر ایک دوسرے کا پریشر رہا، پرفارم کرنے کا ، ڈلیور کرنے کا۔۔اور پھر دیکھا جائے تو ریاست عوام کے پریشر میں رہی، جس سے فائنلی ایک ہائبرڈ نظام نے جنم لیا جو آس آنکھ مچولی کے کھیل کا نکتہ عروج تھا ، اور پھر اسی ہائبرڈ نظام نے اپنے سے تین چار گنا بڑے ملک کو عسکری و سفارتی محاذوں پر ایسا پچھاڑا کہ کہنے والے کہنے پر مجبور ہو گئے، ہم کہاں ہیں، ہم کہاں ہیں، رائزنگ شائننگ انڈیا کہاں ہے؟
وہ رائزنگ شائننگ انڈیا جس کے نعرے سنتے سنتے ہماری جوانی گزر گئی، ہم بھی اس وقت یہ کہا کرتے تھے ہم کیوں نہیں ، ہم کیوں نہیں۔۔
فلاسفرز کہتے ہیں جیسے عروج یا ترقی ملٹی ڈائمینشنل ہوتی ہے ایسے ہی زوال بھی ملٹی ڈائمینشنل ہوتا ہے۔
ہندو توا کی Rigidity کا اثر بھی ملٹی ڈائمینشنل ہے، معاشرے کے ہر شعبے پر ہوگا، آج کے بھارت میں سیاست اور صحافت اس زوال کی زد میں ہے۔
باٹم لائن: نظام کوئی بھی ہو، اس کانام کچھ بھی ہو اگر وہ اس ملک اورعوام کیلئے بہتر نہ ہو، اقوام عالم میں عزت نہ ہو تو پھر وہ ناکام نظام ہے ۔





















