وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیک آورزمیں لوڈشیڈنگ پر معذرت خواہ ہیں،ہم نے پاکستان کو ہمیشہ کیلئے اندھیروں سے نکالا،خطےکی صورتحال کےباعث موجودہ حالات کاسامناہے۔
تفصیلات کے مطابق اویس لغاری نے کہا کہ گیس کی پاور کا شارٹ فال 2500 میگاواٹ ہے،ایران امریکا جنگ کے باعث گیس موصول نہیں ہو رہی،پن بجلی کے اندر 1530 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے،پانی کی کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی، ڈیموں سے پانی کے کم اخراج کے باعث پن بجلی کی پیداوار 1676 میگا واٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلب ساڑھے 16 ہزار میگاواٹ سے اوپر جاتی ہے تو گیس پاورپلانٹس کی ضرورت پڑتی ہے،ساڑھے16 ہزار میگا واٹ سے اوپر طلب جانے پر شارٹ فال پیدا ہوتا ہے،کبھی طلب 18 ہزار،کبھی 20ہزار میگاواٹ رہی جس سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوا،گیس کی سپلائی آنے اور پن بجلی کی پیدوار شروع ہونے پر صورتحال بہتر ہوجائے گی۔
وفاقی وزیر کا کہناتھا کہ فرنس آئل کے پلانٹس کو چلایا ہے تاکہ بجلی کی مانگ پوری ہو، شروع کے کئی دن انڈسٹری میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی، جب لوڈ زیادہ ہوا تو انڈسٹری کی لوڈشیڈنگ شروع ہوئی، ہم نے ڈھائی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا تھا، بجلی کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کیلئے ڈھائی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا تھا، پن بجلی کی پیدوار متاثر ہونے سے صورتحال زیادہ خراب ہوئی۔
اویس لغاری نے کہا کہ توانائی شعبے میں اصلاحات کی جارہی ہیں، ہم نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو کافی حد تک کنٹرول کیا، لوڈ شیڈنگ کو ضرورت کے حساب سے بڑھانا پڑتا ہے، سوشل میڈیا پر کچھ لوگ گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں، جنوبی پنجاب میں بجلی موجود ہے، وہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہے، کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 2160 میگا واٹ بجلی لے رہا ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ یکم اپریل سے درآمدی گیس بند ہونے سے مشکلات بڑھیں، ہم تمام آپشنز بروئے کار لارہے ہیں، ڈیزیل کے پلانٹس چلاکر بجلی کی کمی پوری ہوسکتی ہے لیکن وہ عوام پر قیمتوں کی شکل میں بوجھ ہو گا، دن کے اوقات میں کسی قسم کی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی،اس وقت 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے، مثبت نتائج حاصل کرنے کیلئے ہر اسٹریٹجی اپنا رہے ہیں،امریکا ایران جنگ ، بارشوں کا ضرورت کے مطابق نہ ہونا ہماری مجبوری ہے، آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوتے جائیں گے، اس وقت پیک آورز میں ہی لوڈشیڈنگ کی ضرورت ہے۔





















