امریکی صدر کا انٹرویو کرنے والی صحافی کیٹلین ڈورنبوس نے سماء ٹی وی کے پروگرام ’ ریڈلائن ‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے ایران کے ساتھ مذاکرات پاکستان میں ہوسکتے ہیں،پاکستان میں مذاکرات کا یہ اہم موقع ہے،شیڈول کے مطابق مجھے کل واپس جانا تھا،میں نے صدر سے رابطہ کیا اور انہیں افواہوں کے بارے میں بتایا۔
کیٹلین ڈور نبوس کا کہناتھا کہ بہت دلچسپ ہے پاکستان کو ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کا موقع مل سکتا ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میں نے بتایا میں اسلام آباد میں ہوں،میں نے صدر سے پوچھا ہے کیا میں واپس چلی جاؤں ،انہوں نے کہا ہاں واپس آجائیں،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً 37 منٹ بعد دوبارہ مجھے فون کیا،صدر ٹرمپ نے کہا اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو اسلام آباد ہی میں رہتا،صدر ٹرمپ نے کہا حالات بدل رہے ہیں،اگلے 48 گھنٹوں میں کوئی اہم پیش رفت ہو سکتی ہے،صدر کے فون کے بعد میں نے اپنے ایڈیٹر کو بتایا مجھے کچھ دن اور رکنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ غیر معمولی بات ہے صدر خود آپ کو دوبارہ فون کریں،بہت خوشی ہے،یہ میری کیئرکیئر میں پہلی بار ہوا،صدر نے دوبارہ فون کیا،صدرڈونلڈ ٹرمپ کی رائے میں بہت تبدیلی آئی ہے،صدر ٹرمپ نے کہا وہ نیو یارک پوسٹ کی پرواہ کرتے ہیں،صدر نے کہا وہ نہیں چاہتے تھے میں کسی اہم خبر سے محروم رہوں،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کی۔
صحافی نیویارک پوسٹ کا کہناتھا کہ صدر نے کہا ہم وہاں جائیں گے کیونکہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، ہم کسی ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا مذاکرات اسلام آباد میں ہی ہوں گے،صدر ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کی وجہ فیلڈ مارشل کو قرار دیا۔ صدر نے کہا وہ اسلام آباد جانیوالے وفد میں شامل نہیں ہوں گے۔





















