نیب کوسندھ کے منصوبے ’روشن سندھ پروگرام‘ میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے اہم شواہد مل گئے ہیں۔
نیب ذرائع کے مطابق منصوبے میں 17 سے زائد جعلی امپورٹ ڈیکلیریشن دیئے گئے،جعلی درآمدی دستاویزات،اوورانوائسنگ سے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا،پراجیکٹ ذمہ داران محفوظ قاضی ، مدثر قاضی ، جعفر خواجہ اور عون خواجہ کو طلب کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایک ملزم کا بیان قلمبند کر لیا گیا ہے جبکہ دو کو 15 اپریل کو طلب کیا گیا،کیس میں مزید اہم شخصیات کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ رہےہیں، جعلسازی کے ذریعے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کئےگئے،دبئی میں قیمتی جائیدادیں خریدی گئیں۔
ذرائع کا کہناہے کہ نیب نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیاہے جبکہ کیس میں کچھ گرفتاریوں کا امکان بھی ہے،منصوبے میں 5 ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی، ایک کمپنی کوغیرقانونی ادائیگیاں بھی کی گئیں۔





















