پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں ایک سفارتی عمل کی بنیاد رکھی گئی ہے، یہ مذاکرات ایک ایونٹ نہیں ایک مسلسل عمل کانام ہے۔
ایک پیغام میں ایرانی سفیر رضاامیری مقدم نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل کی کوششوں کو سراہتےہیں، نیک نیتی اور اعتماد کے ساتھ پائیدارحکمت عملی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی میزبانی اورکردارقابل تعریف ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کےلیے پرامن، باوقار اور محفوظ ماحول فراہم کیا، پاکستانی حکومت،فوج اورپولیس نے مذاکراتی عمل کوآسان بنایا۔ ایرانی وفد نےوقار اور اعتماد کے ساتھ قومی مفاد کیلئے مذاکرات کیے، مذاکرات کا مقصد ایرانی عوام کے حقوق اورقومی مفادات کا تحفظ ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے تاریخ ساز مذاکرات کا پہلا راؤنڈ مکمل ہوگیا ہے۔ فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی نائب صدر کا بات چیت کو بڑی پیشرفت قرار دینا امید کی واضح بڑی کرن ہے۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ ہم نے 21 گھنٹوں تک بات چیت کی اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے کئی پہلوؤں پر گفتگو کی،فی الحال ہم کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں وہ ہم نے واضح کردی ہے،ان میں سے کون سے معاہدے میں شامل ہونگے کونسے نہیں ،یہ سب ہرممکن حدتک واضح ہوگیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کئی پیچیدہ نکات پر مفاہمت کی تصدیق کی ہے۔ کہا اتنے بڑے تنازع کا ایک ہی نشست میں حل ہوجانا ممکن نہ تھا۔ مذاکرات کے اہم موضوعات کے مختلف پہلوؤں پربات چیت کی گئی،اکثر نکات پراتفاق ہوگیا،دو سےتین نکات پراختلاف برقرار ہے،پاکستان اور دیگر دوست ملکوں کے ساتھ مشاورت جاری رہی گے۔




















