وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی شروع ہوئی تو وزیراعظم نے ہمیں پہلے دن سے جگایا،پورے خطے میں تیل کی قلت ہوئی،دوسرے ممالک میں پیٹرول کیلئے لائنیں لگی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ جہاں سے ہوسکا ہم نے تیل کا بندوبست کیا،2جہاز آبنائے ہرمز کےذریعے آئے،فجیرا سے بھی تیل کا بندوبست کیاگیا،پاکستان میں تیل کی قلت پیدا نہیں ہوئی،تاریخ میں عالمی سطح پرکبھی قیمتیں اتنا اوپر نہیں گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کئی راتیں جاگے،ان کی ٹیم نے محنت کی، 3ہفتےتک وزیراعظم نے قیمتوں کا بوجھ عوام پر نہیں آنے دیا، وزیراعظم نے عید کے موقع پرکہا اپنے لوگوں کواذیت برداشت نہیں کرنے دوں گا، اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت کردی گئی۔
وزیراطلاعات عطاتارڑنے کہا کہ سندھ میں بھی کرایوں میں اضافہ روک دیاگیا،وزیراعظم شہبازشریف نے ہارنہیں مانی،وزیراعظم تمام وزارتوں سے کارکردگی رپورٹ لیتے ہیں، عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، پبلک اور گڈزٹرانسپورٹ کیلئے ڈیجیٹل والٹ کا نظام وضع کیاگیا، عوام کو پریشانی سے بچانے کیلئےجو ہوسکا کریں گے۔
مصدق ملک نے کہا کہ 3سے 4 ہفتے ہو چکے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے،تیل کی قیمت کاطوفان تھا،حکومت دیواربن کر کھڑی رہی، 130ارب روپے ترقیاتی منصوبوں میں سے کاٹ کر عوام کو دیئےگئے، ایک ایک پیسہ بچت سے خرچ کیاگیا، ذمہ داری سے فیصلہ کیا قیمتوں کا بوجھ غریب پر نہ ڈالاجائے۔
ان کا کہناتھا کہ وزیراعظم نےتیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ امیر پر ڈالا، 1500روپےفی ایکڑکسان کو دینے کا فیصلہ کیاگیا، موٹرسائیکل چلانا والاغریب ہے، موٹرسائیکل والوں کوایک لیٹر پر 100 روپے سبسڈی دی گئی،غریب وہ ہے جو بس میں سفر کرتاہے، بڑے ٹرک کو 80 ہزار اور چھوٹے ٹرک کو 70 ہزار سبسڈی دی جا رہی ہے۔






















