ذرائع نے کہاہے کہ پاکستان اور افغان رجیم میں ایک بار پھر سہہ فریقی پلیٹ فارم پر بات چیت کا آغاز ہو گیاہے، ارومچی میں پاکستان، چین اور افغانستان کے سہہ فریقی مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ علی اسد گیلانی نے پاکستانی وفد کی قیادت کی،سینئر چینی حکام اور افغان طالبان رجیم کے اعلی حکام بھی شریک ہوئے، بیجنگ پہنچنے ہر پاکستانی حکام کا چینی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے استقبال کیا۔
دفتر خارجہ کے بیان میں بھی پاک چین وزرائے خارجہ اجلاس میں افغانستان پر بات ہونے کا ذکر ہے۔
دوسری جانب چینی دفتر خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ چین اور پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے 5 نکاتی پلان پیش کیا، جنگ بندی، مذاکرات، اورسیکیورٹی پانچ نکاتی پلان کے بنیادی جز ہیں، چین اور پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے منشور کی بالادستی کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔
ترجمان چینی دفتر خارجہ کے مطابق ایک ماہ سے جاری ایران جنگ کے اثرات پھیلتے جارہے ہیں، مشرق وسطیٰ کی صورتحال خطے اور عالمی برادری کے مشترکہ مفادات کے حق میں نہیں، چین اور پاکستان کو گلوبل ساؤتھ کے اہم ترین ممالک کی حیثیت حاصل ہے، دونوں ملک عالمی برادری میں اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔






















