یمن میں حوثی باغیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔
حوثی باغیوں نے اسرائیل اور امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران حملوں کے لیے بحیرہ احمر کو استعمال کرنے کے خلاف خبردار بھی کیا ہے۔
حوثیوں کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے ایک ویڈیو بیان میں تصدیق کی کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ بھی جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بحیرہ احمر کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران اور کسی بھی مسلم ملک کے خلاف کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بحیرہ احمر کو کسی بھی مسلمان ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے اسرائیلی حدود کی جانب داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد یمن سے داغا جانے والا یہ پہلا میزائل ہے۔
ماہرین کے مطابق حوثیوں کی تنازع میں شمولیت ’بڑی اہمیت‘ کی حامل ہے کیونکہ وہ ایک اور اہم بین الاقوامی تجارتی بحیرہ احمر پر بیٹھے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔






















