وزیراعظم شہبازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پیٹرول پر 95 اور ڈیزل پر 203 روپے اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جسے میں نے آپ کی مشکلات کے پیش نظر ایک بار پھر مسترد کر دیاہے اور یہ بوجھ وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر خود اٹھانے کا فیصلہ کیاہے اس کا حجم 56 ارب روپے بنتا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کا کہناتھا کہ ایک طرف ہم اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور عوام کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں قیامت خیز اضافے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری جانب سفارتی محاذ پر امن کے قیام کیلئے متحرک ہیں، اس جنگ کو رکوانے کیلئے پاکستان سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں کر رہاہے تاکہ خطہ اور برادر اسلامی ممالک تباہ کن جنگ اور اس کے منفی اثرات سے نجات پائیں، اجتماعی مشاورت پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے ۔
انہوں نے کہا کہ میں نے متعدد مرتبہ ایران اور خلیجی ممالک کے سربراہان کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار پوری محنت اور خلوص کے ساتھ ان کاوشوں میں مصروف عمل ہیں، فیلڈ مارشل اس مفاہمتی عمل کی کامیابی کیلئے فعال اور قلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، میری آپ سے درخواست ہے کہ ان کاوشوں کی کامیابی کیلئے دعا کریں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے متعدد مرتبہ ایران اور خلیجی ممالک کے سربراہان کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار پوری محنت اور خلوص کے ساتھ ان کاوشوں میں مصروف عمل ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر اس مفاہمتی عمل کی کامیابی کیلئے فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، میری آپ سے درخواست ہے کہ ان کاوشوں کی کامیابی کیلئے دعا کریں۔
شہبازشریف نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک غیر معمولی اور مشکل ترین صورتحال سے نبرد آزما ہے جہاں بڑی معیشتیں بے بسی کی خاموش تصویر بنی ہوئی ہیں، ترقیای یافتہ ممالک جن کے پاس وسائل کے انبار ہیں آج وہ بھی شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں اس بات کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں کہ پاکستان پر اس معاشی بوجھ کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے تھے لیکن اللہ کے کرم سے ہم نے اس طوفان کا مقابلہ کرنے کیلئے پہلے سے ہی تیاری شروع کر رکھی تھی، لہذا ہم نے فوری وہ فیصلے کیئے جو ہرگز آسان نہیں تھے ، ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ سے 100 ارب روپے کی کٹوتی ، سادگی اور کفایت شعاری کی مہم سے ایک ایک پیسہ بچا کر اربوں روپے عام آدمی پر معاشی دباو ٔکم کرنے کیلئے وقف کر دیئے ۔تاکہ تاریخ کی اس مشکل گھڑی میں جہاں تک ممکن ہو سکے آپ کی حکومت عوام کو ان مشکلات سے بچانے کیلئے ہر ممکن وسائل آپ کے قدموں میں نچھاور کرے ۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ پر یہ حقیقت اچھی طرح آشکار ہو چکی ہوگی کہ آج جب گاڑی یا موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلواتے ہیں تو ہر ایک لیٹر کے پیچھے حکومتی بچت کی پالیسی اور احساس ذمہ داری کی جھلک موجود ہوتی ہے ، یہ ہفتہ جو آج سے شروع ہو رہاہے ، اس میں مجھے پیٹرول پر 95 اور ڈیزل پر 203 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جسے میں نے آپ کی مشکلات کے پیش نظر ایک بار پھر مسترد کر دیاہے اور یہ بوجھ وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر خود اٹھانے کا فیصلہ کیاہے اس کا حجم 56 ارب روپے بنتا ہے ، اس ہفتے میں مزید 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی اور آپ کو یہ بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں دیکھی جائیں تو آج کے دن پیٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی لیکن آپ اسے صرف 322 روپے میں حاصل کر رہے ہیں، اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی آج کے دن پاکستان میں 790 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی لیکن حکومت آپ کو ڈیزل 335 روپے فی لیٹر فراہم کر رہی ہے تاکہ آپ پر مزید بوجھ نہ پڑے اور آپ کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔




















