وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق اہم فیصلہ کرلیا۔ صوبائی سلیکشن کمیٹیوں کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کو 60 روز میں شفاف بھرتیوں کا حکم دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، فیصلہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے تحریر کیا۔ عدالت نے صوبائی سلیکشن کمیٹیوں کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت کی ہے کہ قانون کے مطابق بھرتیوں کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ تقرریوں کا عمل 60 روز میں مکمل کر کے رپورٹ رجسٹرار کو پیش کی جائے جبکہ غفلت برتنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوامی تقرریوں کا عمل آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق پر مبنی ہے اور ہر شہری کو سرکاری اسامیوں کے لیے مقابلے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ شفاف اور منصفانہ تقرری بھی شہریوں کا بنیادی حق ہے اور بھرتی کے عمل میں کسی قسم کی تعصب یا بددیانتی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے خاص طور پر نائب قاصد، خاکروب اور چوکیدار جیسی اسامیوں کے لیے زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایسی تقرریاں ایک مقدس امانت ہیں کیونکہ ان کے لیے سخت تعلیمی شرائط نہیں ہوتیں۔موزوں ترین امیدوار کا انتخاب نہ کرنا عوامی امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔
ڈسٹرکٹ اسپتال کرک میں فروری 2022 میں کلاس فور ملازمین کی بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا تھا، سلیکشن کمیٹی نے اہل امیدواروں کی سفارش کی تاہم پشاور ہائیکورٹ نے تقرری کے احکامات جاری کرنے سے روک دیا تھا اور شفاف عمل کی ہدایت کی تھی۔






















