نجی ایمبولینس سروس کو بھی قانون کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،تمام نجی ایمبولینسز کو محکمہ ایمرجنسی سروسز پنجاب میں رجسٹر کروانا لازم ہوگا۔
پنجاب حکومت نےایمبولنس سروسزکےلیےنئےقواعدجاری کردیے،ایمرجنسی کی صورت میں قریب یپرائیوٹ ایمبولینس کوریسکیو1122کی جگہ طلب کیاجاسکےگا،محکمہ بوقت ضرورت انہیں ریسکیو ڈب ون ڈبل ٹوکےمتبادل استعمال کرسکےگا،ایمبولینس کاکرایہ فی کلومیٹرفکس ہوگا،عملےکی صحت اور فٹنس لازمی،نظرکی درستگی بھی چیک ہوگی،ایمبولینس کے کرایوں کا تعین محکمہ ایمرجنسی سروسز کرے گا۔
فی کلومیٹرریٹس،ایندھن کی قیمت،کیٹگری کے مطابق کرائے مقرر ہوں گے،نجی ایمبولینسز کے اضافی چارجز پر پابندی،مقررہ ریٹس پرعملدآمدکرنا ہوگا،پیرامیڈیکل اسٹاف اور ڈرائیورزکیلئے اندراج اور لائسنس کی شرط لازمی ہوگی،ایمبولینس اسٹاف کی صحت اورفٹنس لازمی،نظرکی درستگی بھی چیک ہوگی، متعدی بیماری یا منشیات کی لت میں مبتلا افراد ایمبولینس سروسز میں کام کیلئے نااہل ہوں گے، عملے کا پولیس کریکٹر سرٹیفیکیٹ، ٹریننگ سرٹیفیکٹ لازمی ہوگا۔
گاڑی کی ملکیت اورایکسائزرجسٹریشن کی تصدیق کے بعد ایمبولینس کی اجازت ملےگی،ہرایمبولینس پر رجسٹریشن اسٹیکر اسکرین، سرٹیفکیٹ نمبرپلیٹ پر لگانا لازم ہوگا،ایمبولینس پر صرف سرخ رنگ کی ایمرجنسی لائٹ اورسائرن لگانےکی اجازت ہوگی،غیرمعیاری گاڑیوں کےبطور ایمبولینس کےطورپراستعمال کرنے پر پابندی ہوگی۔
ایمبولینس میں کم ازکن تین افراد کیلئے بیٹھنےکی سہولت لازمی قرار دی گئی،ایمبولینس میں آکسیجن سسٹم، فلومیٹرز، اسپائن بورڈ، ہیڈ اموبلائزر، بلڈپریشر اپریٹس سمیت مختلف آلات لازمی ہوں گے،تمام ایمبولینسز کو نقل و حرکت کا ریکارڈ، مریضوں کی معلومات سسٹم میں درج کرنا ہوگی،خلاف ورزی کرنے والوں کو پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ کے تحت سزا ہوگی۔





















