ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کی سفارتکاری پر کوئی بھی اعتماد نہیں کر سکتا، جس طرح یہ جنگ شروع کی گئی اب کون مذاکرات کے دعووں کو قابلِ اعتبار سمجھ سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں اسماعیل بقائی آبنائے ہرمز میں مختلف اقدامات جنگی صورتحال کے باعث نافذ کیے گئے ہیں، جو ممالک جارحیت میں شامل نہیں وہ ایران سے رابطہ کرکے اس گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں، ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرتا رہے گا۔
قبل ازیں ایرانی خاتم الانبیا سنٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکا کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ مذاکرات کرنے لگے ہیں، امریکا سے کہتا ہوں، اپنی ناکامی کو معاہدہ مت کہو۔
لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ہماری مرضی کے بغیر نہ تیل کی پرانی قیمتیں واپس آئیں گی اور نہ ہی سابقہ نظام بحال ہوگا۔ یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ایران کے خلاف کارروائی کا خیال تمہارے ناپاک ذہنوں سے مٹ جائے۔
دوسری جانب ایران کے سابق سیکرٹری نیشنل سیکیورٹی کونسل علیاکبر احمدیان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ برسوں سے ہم اس انتظار میں تھے کہ امریکی ہماری نامزد کردہ جگہوں تک آجائیں، 2 دہائیوں سے زائد ہم اس لمحے کیلئے تیاری کررہے تھے، اب ہمارے پاس امریکی فوجیوں کے لیے صرف ایک پیغام ہے، مزید قریب آؤ۔




















