ایران نے امریکا سے براہ راست مذاکرات کی تردید کردی۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں کم کرنے کیلئے جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ایرانی عوام حملہ آوروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر کا بیان وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی ۔ جوابی کارروائی کی دھمکی کی وجہ سے امریکی صدر پیچھے ہٹے۔ علاقائی ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے، آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے والی حالت پر نہیں آئے گی ۔
ایرانی وزیر خارجہ کے روس اور ترکیہ کے ہم منصب سے رابطے کیے۔ آبنائے ہرمز اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایران کے جوہری ڈھانچے پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔






















