سوڈان کی ریاست دارفور میں ایک اسپتال پر ڈرون حملے کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
خبرایجنسی کے مطابق حملے میں الدائین ٹیچنگ اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 بچے بھی ہلاک ہوئے۔ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز نے بتایا کہ حملے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کی بالائی منزل مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جبکہ عمارت اور طبی آلات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔تنظیم کے مطابق متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ریپڈ سپورٹ فورسز نے اس حملے کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔مشرقی دارفور کی مقامی سول انتظامیہ کے سربراہ نے بھی تصدیق کی کہ زخمیوں کی بڑی تعداد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے اور اس حملے کو ایک اہم شہری تنصیب کو براہ راست نشانہ بنانا قرار دیا۔
دوسری جانب سوڈان میں انسانی امور کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں اور طبی عملے کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اپریل 2023 سے جاری جنگ کے باعث ملک میں شدید انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔





















