سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا کہنا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری امریکا کی سلامتی کیلئے تھا۔ اگر ایران کو نہ روکا گیا تو اُس کے میزائل امریکا تک پہنچ سکتے ہیں۔
نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تِلسی گبارڈ اور ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے کانگریس کی سماعت میں دو گھنٹے سے زائد وقت تک امریکہ کو درپیش عالمی خطرات پر بریفنگ دی۔ یہ جنگ کے آغازکے بعد انٹیلی جنس پر پہلی عوامی بریفنگ تھی۔
امریکی حکام نے کہا کہ ایران کو روکا نہ گیا تو اُس کے میزائل امریکا تک پہنچ سکتے ہیں، چین، روس اور شمالی کوریا امریکا تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہے ہیں۔
امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کا کہنا تھا کہ تہران مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگر ایرانی قیادت باقی رہ گئی تو وہ دوبارہ میزائل پروگرام شروع کرنے کی کوشش کرے گی۔
تِلسی گبارڈ نے کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں مسائل کی پیش گوئی کی تھی، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری تجارتی راستہ ہے۔ ان کے مطابق ’انٹیلی جنس کمیونٹی کا اندازہ ہے کہ ایران کی حکومت بظاہر قائم ہے، لیکن قیادت اور فوجی صلاحیتوں پر حملوں کے باعث بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔





















