اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
ڈبلیو ایف پی نے خبردار کیا کہ جون تک ساڑھے 4 کروڑ افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ جنگ بھوک کی شرح کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر لے جائے گی۔ خوراک، تیل اور شپنگ کے اخراجات میں اضافے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد شروع ہونے والی یہ کشیدگی اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے جس کے باعث امدادی کارروائیوں کو تاخیر اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ انسانی امداد پہنچانے کے لیے 'ڈبلیو ایف پی' کے اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
ادارے کے ہزاروں ٹرک روزانہ چل رہے ہیں مگر اب ان کے لیے ایندھن کہیں زیادہ مہنگا ہو گیا ہے کیونکہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت مند لوگوں کے لیے خریدی جانے والی خوراک یا انہیں دی جانے والی نقد امداد کا حجم کم ہو گیا ہے۔






















