یواے ای نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کیلئے امریکی کوششوں کا حصہ بننے کا عندیہ دیدیا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ان کا ملک آبنائے ہرمز کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکا کی قیادت میں ہونے والی بین الاقوامی کوشش میں شامل ہو سکتا ہے۔اس وقت یو اے ای اور ایران کے درمیان کوئی فعال مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ہم خطے میں کشیدگی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین اور کینیڈا نے امریکا کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ تہران کے خلاف جنگ میں شرکت سے صاف انکار کردیا۔ ای یو فارن پالیسی چیف کایا کالاس نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ سے پہلے مشورہ نہیں کیا ۔ کسی بھی فیصلے سے پہلے صدر ٹرمپ کی غیر متوقع طبیعت کو مدنظر رکھنا ہو گا ۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے سفارتکاری کا مشورہ دے دیا۔
یورپی یونین سے پہلے برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، آسٹریلیا، یونان اور اٹلی بھی فوجی مشن آبنائے ہرمز بھیجے سے انکار کرچکے ہیں۔






















