برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے خلاف وسیع جنگ کا حصہ نہیں ہونگے، ہم اس مسئلے کے تیزتر حل کیلئے کام کرتے رہیں گے۔
تفصیلات کے مطابق کیئر سٹارمر کا کہناتھا کہ جنگ کے بعد ہمیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہوگی، آبنائے ہرمز کو کھولنا کوئی سادہ کام نہیں ہے، سمندری آمدورفت کو بحال کرنے کیلئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کمپنیوں کو بچتے صارفین تک منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے ، کمپنیوں کو لوگوں کی مشکلات سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے، یوکرین کے صدر زیلنسکی سے جلد ملاقات کروں گا، ہم پیوٹن کو ایران جنگ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے۔
ان کا کہناتھا کہ مجھ پر ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بننے پر تنقید کی گئی، ہمارا فیصلہ برطانوی عوام کے مفاد پر مبنی ہونا چاہیے، برطانوی افواج کو جنگ پر بھیجنے کا قانونی جواز ہونا چاہیے، چاہے کتنا دباؤ کیوں نہ ہو، میرا کام برطانوی مفاد کا دفاع کرنا ہے۔
کیئر سٹارمر کا کہناتھا کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ سے آبنائے ہرمز پرتفصیلی بات ہوئی، آبنائے ہرمز کے مسئلے پر قابل عمل پلان پر بات چیت ہو رہی ہے، زیادہ سے زیادہ اتحادیوں کو اس بات چیت کا حصہ بنا رہے ہیں۔





















