امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر کیون ہیسٹ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔
کیون ہیسٹ نے کہا کہ اس وقت تیل کی قیمتوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، ایران نرمی کا مظاہرہ کرے تیل کی سپلائی میں اضافہ ہوسکتا ہے، جنگ ختم ہونے کے بعد ہی عالمی معشیت کو استحکام ملے گا۔ مشرق وسطیٰ میں ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔
دوسری جانب کیون ہیسٹ کے دعوے کے برعکس نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ جنگ کی ایک بریفنگ میں قانون سازوں کو بتایا گیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے پہلے ہفتے میں امریکہ کو 11 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ برداشت کرنا پڑا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تنازع کس تیزی سے ہتھیاروں اور وسائل کو استعمال کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس رقم میں ان اخراجات کو شامل نہیں کیا گیا جو حملوں سے قبل فوجی تیاریوں اور تعیناتی کے دوران کیے گئے تھے۔ اس طرح جنگ کے پہلے ہفتے کی حتمی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس سے قبل دفاعی حکام کانگریس کو بتا چکے ہیں کہ لڑائی کے صرف پہلے دو دنوں میں تقریباً پانچ ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیار استعمال کیے گئے، جو پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خرچہ ہے۔





















