پاکستان میں بچوں کا آن لائن جنسی استحصال روکنے کیلئے مصنوعی ذہانت سے مدد لینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
وزارت داخلہ نے بچوں کا آن لائن جنسی استحصال روکنے کےلیے ضروری آئی ٹی ہارڈویئر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر حاصل کرلیا، آزمائشی مرحلے کے بعد پورے ملک میں نافذ کردیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کے مطابق این سی سی آئی اے ہیڈ کوارٹر میں اے آئی پروگرام کیٹالسٹ آزمائشی مرحلے میں ہے، آزمائشی مدت کی کامیاب تکمیل کے بعد یہ نظام ملک بھر میں نافذ کردیا جائے گا۔ اے آئی سافٹ ویئر سے بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے خلاف تحقیقات بہتر ہوں گی۔
وزارت داخلہ نے نو ماہ کے دوران موصول ہونے والی شکایات کی تفصیلات بھی ایوان بالا میں پیش کردیں،دستاویز کے مطابق اپریل 2025 سے اب تک بچوں کے جنسی استحصال کی 523 شکایات موصول ہوئیں، این سی سی آئی اے نے بچوں کے جنسی استحصال پر 114 ایف آئی آر درج کیں۔
سب سے زیادہ 71 ایف آئی آر پنجاب میں درج ہوئیں،خیبرپختونخوا میں 14 واقعات، سندھ میں 13،اسلام آباد میں 9 اور بلوچستان میں 7 ایف آئی آر درج کی گئیں، رواں سال اب تک ملک بھر میں 21 نئی ایف آئی آر درج کی جاچکی ہیں، میں ایک لاکھ 38 ہزار 612 سائبر ٹِپ لائن رپورٹس موصول ہوئیں۔ میں 8 لاکھ 37 ہزار سائبر ٹپ لائن رپورٹس موصول ہوئی تھیں۔





















