وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اہم اجلاس ختم ہوگیا۔
وفاقی دارالحکومت میں جاری اہم اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمانی رہنماؤں کو پاک افغان صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی قیادت سے رابطوں پر بھی اعتماد میں لیا۔
ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ حکام نے ایران اسرائیل تنازع کے بعد ملکی خارجہ پالیسی سے متعلق بریفنگ دی، شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان نے تنازع کی شدت میں کمی لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی،بریفنگ، نائب وزیراعظم نے خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ اپنے دوطرفہ رابطوں سے متعلق آگاہ کیا۔ شرکاء کو مغربی سرحد پر افغان طالبان رجیم کے خلاف جاری آپریشن پر بھی بریفنگ دی گئی۔
حکام نے کہا کہ پاکستان نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اور ایران پر حملوں کی فوری مذمت کی، بریفنگ، شرکا کو ایران کی جانب سے خلیجی اور عرب ممالک پر حملوں کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ افغان، ایران اور مشرق وسطیٰ سمیت علاقائی و عالمی صورتحال پر حکومتی ان کیمرا بریفنگ میں شرکت سے متعلق اپوزیشن تقسیم ہوگئی ۔ مولانا فضل الرحمان نے دعوت قبول کرلی جبکہ تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی سے عدم ملاقات کو جواز بنا کر بریفنگ میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔





















