پاکستان کی جانب سے افغان طالبان رجیم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے اہم ترین بگرام ایئربیس کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ پاک فضائیہ کی کارروائی میں بگرام ایئربیس پر ایک ایئرکرافٹ ہینگر اور دو ویئر ہاؤس تباہ ہوگئے۔ معروف امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے بھی تصدیق کردی۔ سیٹلائٹ تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج کی موجودگی کے شواہد خود اقوام متحدہ رپورٹس میں بھی بارہا پیش کیے جاچکے۔
ماہرین کا کہنا ہے پاکستان کے بارہا انتباہ کے باوجود افغانستان سے دہشتگردی مسلسل جاری ہے۔ امریکا کا چھوڑا گیا اسلحہ بھی پاکستان کیخلاف دہشت گردی میں استعمال ہوتا رہا، جس پر بگرام ایئربیس کو نشانہ بناکر پاکستان نے واضح پیغام دیا کہ افغانستان میں کہیں بھی کارروائی کرسکتا ہے۔
دوسری جانب پاک فوج نے 50 مختلف مقامات پر افغان طالبان،فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانے تباہ کردیئے۔ بھاری جانی و مالی نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سمیت چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹرمیں مؤثر کارروائیاں کیں۔ ان مقامات کو سرحد پار سے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
پاک فوج نے 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب بھاری ہتھیاروں کااستعمال کرتے ہوئے آپریشنز کئے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں طے شدہ اہداف کے مکمل حصول تک جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ پاکستانی افواج کا آپریشن غضب للحق کامیابی سے جاری ہے، اب تک افغان طالبان رجیم کے 400 سے زائد کارندے ہلاک ہوچکے ہیں، افغانستان کے اندر 51 مقامات کو فضائی کارروائی میں بھی مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔ طالبان رجیم 630 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
پاک فوج کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی 188 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 31 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ افغان طالبان کے 188 ٹینک، بکتربند گاڑیاں اور توپ خانہ بھی تباہ کر دیا گیا۔ وزیراطلاعات نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر 51 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثرطور پر نشانہ بنایا ہے۔






















