افغان، ایران اور مشرق وسطیٰ سمیت علاقائی و عالمی صورتحال پر حکومتی ان کیمرا بریفنگ میں شرکت سے متعلق اپوزیشن تقسیم ہوگئی ۔ مولانا فضل الرحمان نے دعوت قبول کرلی جبکہ تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی سے عدم ملاقات کو جواز بنا کر بریفنگ میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کی ان کیمرہ بریفنگ میں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں مولانا عطا الرحمان، اور سینٹر کامران مرتضیٰ پر مشتمل وفد شرکت کرے گا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے آمادگی سے قبل مشاورت کے لئے اپوزیشن سے تین مرتبہ رابطہ کیا۔
اس سے پہلے مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے اندر نشست پر جاکر بیرسٹر گوہر کو بریفنگ میں جانے کا مشورہ دیا۔ مولانا فضل الرحمان نے شام کو محمود اچکزئی اور بیرسٹر گوہر کو ٹیلی فون کرکے بھی بریفنگ میں شرکت کی تجویز دی۔
مولانا نے مشورہ دیا کہ پہلے بریفنگ میں جائیں اور وہاں متفقہ طور پر پارلیمان کو بھی ان کیمرہ بریفنگ کی شرط رکھیں لیکن محمود اچکزئی اور بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے سامنے بے بس نکلے۔ ان کیمرا بریفنگ میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی، اور مجلس وحدت مسلمین کی عدم شرکت کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی بریفنگ میں شرکت نہ کرنے اعلامیہ جاری کرچکی ہے ۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا تھا بریفنگ میں شرکت کرے اپوزیشن وزیراعظم کی بات سنے اور اپنی بات بھی کر لے جبکہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ مخصوص ارکان کے بجائے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر سب کو سیکیورٹی بریفنگ دی جائے۔






















