سیکیورٹی صورتحال کے باعث آئی ایم ایف سے ورچوئل مذاکرات کا فیصلہ کرلیا گیا۔ آئی ایم ایف وفد پہلی میٹنگز کے بعد واپس روانہ ہوگیا۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آن لائن مذاکرات ہوں گے، وفد کے ساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات کی آج سے تمام میٹنگز ورچوئل ہوں گی۔ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث وفد سے ورچوئل مذاکرات کا فیصلہ ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ورچوئل مذاکرات میں شیڈول کے مطابق ہی میٹنگز ہوں گی، ورچوئل مذاکرات میں شیڈول کے مطابق ہی میٹنگز ہوں گی۔
واضح رہے کہ قرض پروگرامز کی 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کےلیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں شروع ہوگیا۔ پاکستان کی معاشی ٹیم سے آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کی ابتدائی ملاقات میں وزیر خزانہ نےمعاشی اشاریوں میں بہتری پر اعتماد میں لیا۔ کہا حالیہ مشکل فیصلوں کے باعث معیشت درست سمت میں گامزن اور قرض پروگرام آن ٹریک ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات کا دوسرا راونڈ اسلام آباد میں شروع ہوگیا۔ آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا کی قیادت میں وفد نے وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب سے نجی ہوٹل میں افتتاحی ملاقات کی۔ وزیر خزانہ نے ملکی معیشت میں حالیہ بہتری کی صورت حال سے آگاہ کیا۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا مہنگائی دسمبر 2025 میں کم ہو کر 5.2 پر اور شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آچکی۔ پی آئی اے سمیت نجکاری پروگرام میں پیش رفت ہوئی۔ زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر سے زائد ہوگئے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر تک محدو رہا۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6 فیصد بہتری آئی۔ ٹیکس اورتوانائی شعبے سمیت اصلاحات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے پہلی ششماہی کی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق ٹیکس ریونیو جولائی تا دسمبر ہدف کے مقابلے میں 329 ارب روپے کم رہا۔ البتہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں بہتری آئی ۔ معاشی سرگرمیوں میں سست روی،مہنگائی میں کمی سمیت ریونیو میں کمی کی مختلف وجوہات بتائی گئیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مجموعی اصلاحات کو سراہا اور ریونیو بڑھانے سمیت مزید اقدامات پر زور دیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آج 4 سے 5 مختلف اجلاس ہونگے۔ حکومتی ٹیم خراجات کا ترجیحی پلان شیئر کرے گی۔ بجٹ اہداف سمیت مجموعی آؤٹ لک اور سیلاب کے معاشی اثرات کا جائزہ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ آئی ایم ایف صوبائی ٹیکس محاصل خصوصاً زرعی آمدن پر ٹیکس کا بھی جائزہ لے گا۔ بیرونی قرض ،فنانسنگ ، فنڈنگ اور مستقبل کی ادائیگیوں کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔





















