پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے ساتھ میچ کھیلے گا یا نہیں؟ پوری دنیا کو انتظار ہے۔
سری لنکن صدر نے وزیراعظم شہبازشریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ درخواست کی ہے کہ پاکستان کو سری لنکا میں منعقدہ پاک بھارت میچ کھیلنا چاہیے۔ صدر انورا کمارا نے کہا کہ پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو ہر چیز پر فوقیت دی۔ سری لنکا میں دہشت گردی کے باوجود پاکستان نے کرکٹ کےلیے دورے جاری رکھے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے لنکن صدر کے جذبات کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشکل ادوار میں سری لنکا نے بھرپور ساتھ دیا،پاکستان میں کرکٹ جاری رکھی، حال ہی میں بھی سری لنکن ٹیم نےپاکستان کادورہ منسوخ نہ کرکےناقابل فراموش اقدام اٹھایا۔
وزیراعظم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ کھیلنے یا نہ کھیلنے کے حوالے سے مشاورت کے بعد فیصلے سے آگاہ کرنے کا کہہ دیا۔
دوسری جانب چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ میں شرکت کے حوالے سے مسئلہ بنگلادیش کا تھا، ورلڈکپ میں شرکت کے حوالے سے مسئلہ بنگلادیش کا تھا۔ ہم نے بنگلادیش بورڈ کا مؤقف نہیں جانے دینا تھا۔
محسن نقوی نے کہا کہ آئی سی سی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) میں معاملات چل رہے ہیں، اس وقت چیزیں چل رہی ہیں،زیادہ بات نہیں کروں گا، معاملےپرمیں بھی انتظار کر رہاہوں۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ہم نے گھر آئے مہمان کی عزت کرنا سیکھا ہے، اگر کوئی خودچل کر آئے تو بہت ساری چیزیں بھول جاتی ہیں، نہ میں دھمکی سے ڈرتاہوں،نہ ہماری حکومت ڈرتی ہے، بہت سارے ممالک نے رابطہ کیا،ہم نے اپنا مؤقف ان کے سامنے رکھا۔





















