پاکستان نے توانائی کی سیکیورٹی مضبوط کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا،پاور اسٹوریج کے لیے بیٹریاں مقامی سطح پر تیار کی جائیں گی۔
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے اس حوالے سے پالیسی ڈرافٹ تیار کر لیا ہے، جس کے مطابق آئندہ تین سال کے دوران بیٹری کے اہم پرزے پاکستان میں تیار کیے جائیں گے۔
ذرائع کےمطابق 2 غیرملکی کمپنیز 60 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرا چکیں،نئی بیٹریاں سیل فون،سولرسسٹم اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریاں ہوں گی، اور مقامی سطح پر تیار ہونے کے باعث ملکی درآمدی بل میں نمایاں کمی آئے گی۔
پالیسی ڈرافٹ میں بیٹریوں کی سوڈیم کلورائیڈ سے تیاری کو بھی شامل کیا گیا ہے،جس کی کارکردگی لیتھیم بیٹریوں سے زیادہ ہے،بیٹری تیار کرنے والی فیکٹریز کو مشینری درآمد پر ٹیکس چھوٹ بھی دی جائے گی۔
ای ڈی بی حکام کےمطابق ملک میں بیٹری گیگا فیکٹری بنائی جائے گی، جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور بجلی کی کھپت میں بھی اضافی سہولت ہوگی،مستقبل میں پاکستان میں 15 سے 20 فیکٹریاں لگائی جائیں گی، جس سے سالانہ اربوں ڈالر کے درآمدی بل سے چھٹکارا ملے گا۔
حکام نےمزید بتایا کہ پاکستان اب تک سولر سسٹم، انورٹر اور بیٹریز کے لیے تقریباً 8 ارب ڈالر کی درآمد کر چکا ہے، اور مقامی پیداوار کے بعد اس بل میں نمایاں کمی متوقع ہے۔





















