برطانیہ کے سب سے بڑے رومی قبرستانوں میں سے ایک کی دریافت سامنے آئی ہے، جہاں 300 سے زائد قبروں کے آثار ملے ہیں۔ یہ انکشاف برطانیہ کے علاقے کمبریا میں 33 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کے لیے ہونے والی کھدائی کے دوران ہوا۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سال 2025 میں پینرتھ اور اسکاچ کارنر کے درمیان اے 66 سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے سے قبل تحقیقاتی کھدائی کا آغاز کیا تھا، جس کے دوران قدیم رومی قبرستان کی باقیات کے شواہد سامنے آئے۔
اگرچہ ماہرین کو 1960 کی دہائی سے اس علاقے کے قدیم روم سے تعلق کے بارے میں علم تھا، تاہم اب پہلی بار انہیں اس مقام پر باقاعدہ کھدائی کا موقع ملا۔ ماہرین کے مطابق دریافت ہونے والے شواہد قدیم رومی دور سے قبل اور رومی عہد میں تدفین کے طریقوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔
ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر لورین مکنٹائر کے مطابق اب تک 340 کے قریب قبروں کے شواہد کی تصدیق کی جا چکی ہے، جن میں مردوں کو جلانے اور دفنانے دونوں طریقوں کے آثار ملے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قبرستان موجودہ کھدائی کی حدود سے کہیں زیادہ بڑا بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم دریافت سے برطانیہ میں قدیم رومی دور کی سماجی اور مذہبی روایات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔





















