وزیر اعظم شہباز شریف نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ تقریباً 8 دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں،مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج جب ہم “یومِ حقِ خودارادیت” منا رہے ہیں تو ہم غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیرکے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے جاری جائز جدوجہد کی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ پانچ جنوری ہمیں اس تاریخی عہد کی یاد دلاتا ہے جو عالمی برادری نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم اور یقینی بنانے کے لیے کیا تھا۔
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ 5 جنوری 1949 کو اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی جس میں واضح طور پر یہ طے کیا گیا کہ ریاستِ جموں و کشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت کے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے باعث یہ عہد آج تک پورا نہیں ہو سکا اور مذکورہ قرارداد پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ بھارت تمام تر جبر و تشدد اور ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے عزم کو پست اور ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبا نہیں سکا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی اور سیاسی ڈھانچے کو بدلنے کی منظم مہم کا حصہ ہیں، نے کشمیری عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ بھارت نے کشمیری عوام کی حقیقی قیادت کو خاموش کرانے اور میڈیا کو دبانے کی مسلسل کوششیں کی ہیں۔ ہزاروں کشمیری آج بھی سیاسی قیدی ہیں جبکہ سولہ سیاسی جماعتوں/تنظیموں پر قابض حکام نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔
اسی دوران بے گناہ کشمیریوں کی پروفائلنگ اور ہراسانی، من مانے حراستی اقدامات اور نام نہاد “کارڈن اینڈ سرچ ” آپریشنز مقبوضہ علاقے میں معمول بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے تمام جبر و تشدد کے باوجود یہ ہتھکنڈے کشمیری عوام کے عزم کو پست کرنے یا ان کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام بھارتی مظالم کے سامنے کشمیری عوام کی بے مثال جرأت، ثابت قدمی اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسے یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کی واحد راہ ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو فوری طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے، 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی واپسی، جابرانہ قوانین کے خاتمے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے پر آمادہ کرے۔انہوں نے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلایا کہ پاکستان انکے جائز حق کے لیے اپنی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور ہر دستیاب عالمی فورم پر انکی آواز بنتا رہے گا۔



















