امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے صدر ان کی اہلیہ کو حراست میں لینے کا اعلان کیا جس پر دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل جاری کیا جارہاہے جس میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے معاملے پر تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے وینزویلا میں کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور اتحادی ممالک سے وینزویلا واقعے پر بات کرنا چاہتے ہیں، وینزویلا میں امریکی کارروائی کے تمام حقائق جاننے کی ضرورت ہے، برطانیہ کسی بھی طرح اس کارروائی میں شامل نہیں تھا۔
یورپی یونین
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے وینزویلا کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے معاملے پر ضبط و تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے ، مارکو روبیو اور کراکس میں یورپی سفیر سے بات کی، صدر مادورو کو جائز صدر نہیں مانتے ،اقتدار کی پرامن تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں، عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے، وینزویلا میں یورپی شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
سپین
وینزویلا پر امریکی حملے پر ہسپانوی وزارت خارجہ نے رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ وینزریلا کے معاملے پر امریکا کو کشیدگی کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، امریکا کو بین الاقوامی قانون کا احترام کرنا چاہیے، وینزویلا کے مسئلے کے پرامن حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہیں۔
اٹلی
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کا کہناتھا کہ وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، وینزیلا میں موجود اطالوی باشندوں کے بارے میں معلومات حاصل کررہے ہیں، ایک لاکھ 60ہزاراطالوی شہری وینزویلا میں مقیم ہیں۔





















