وینزویلا کی حکومت نے ملک میں حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے امریکا ذمے دار قرار دیدیا ،اور ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی۔
امریکی طیاروں کی جانب سےوینزویلا کے ہیگوئیروتےایئرپورٹ پر بمباری کی گئی،دارالحکومت کراکس میں زور دار دھماکے سنے گئے،مختلف مقامات سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دئیے۔
Wide angle footage shows U.S. airstrikes in Caracas, Venezuela. pic.twitter.com/JnlImZTaeP
— Clash Report (@clashreport) January 3, 2026
وینزویلا کی حکومت کا پہلا ردعمل سامنے آگیا
وینزویلا کی حکومت نے امریکا کو حملوں کا ذمہ دار قرار دیا،صدر مادورو نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی، حکام وینزویلا کا کہنا ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا،وینزویلا 2 صدیوں سے آزاد ہے، یہ حملہ بھی ناکام بنائیں گے،اس حملے کا مقصد وینزویلا کے وسائل پرقبضہ کرنا ہے،یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے،امریکی حکومت کی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں۔
کراکس میں امریکی سفارتخانے نےآپریشنز معطل کردیے،وینزویلا میں امریکی شہریوں کو فوری ملک چھورنے کی ہدایت دیدی گئی،امریکی سفارتخانےکی جانب سےبیان میں کہاگیا کہ امریکی شہریوں کو گرفتاری، ٹارچر، اور تشدد کا خطرہ ہے،وینزویلا میں موجود امریکی شہری فوری یہاں سے نکل جائیں، کسی بھی حالت میں وینزویلا کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
دوسری جانب امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے وینزویلا کی فضائی حدود میں پروازوں پر پابندی عائد کردی۔
یہ واقعہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر بڑھتے ہوئے امریکی دباؤ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کے امکانات کا عندیہ دیا ہے اور ساتھ ہی پابندیوں اور ہدفی حملوں سمیت فوجی و معاشی اقدامات مزید سخت کیے ہیں۔
امریکا اور وینزویلا کے درمیان صورتحال طویل عرصے سے کشیدہ چلی آ رہی ہے۔ امریکا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کو غیرجمہوری قرار دیتا ہے اوران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدعنوانی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ اسی بنیاد پر امریکا نے وینزویلا پرسخت معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں،جن میں تیل کی صنعت پر پابندیاں بھی شامل ہیں،جس سےوینزویلا کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔






















