وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ فضل الرحمان نے کہا 2018 اور 2024 کے الیکشن ٹھیک نہیں تھے، 2018کے الیکشن میں جےیوآئی خود تھی،اسمبلی 5 سال چلی، موجودہ اسمبلی کو مدت پوری کرنی چاہیے، پاکستان میں الیکشن متنازع رہے ہیں، درست طور پر الیکشن نہیں ہو سکے تو سیاستدان کیوں نہیں بیٹھتے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے آج بھی ایک ساتھ بیٹھنے کی بات کی، سلمان اکرم راجا نےجو جواب دیا،کیا پھر ہمیں دعوت دینی چاہیے؟ 2029سے پہلے الیکشن نہیں ہونے چاہئیں،اسمبلی کومدت پوری کرنی چاہیے، پی ٹی آئی نے پہیہ جام کرنے کا کہا،یہ بلیک میلنگ ہے، پی ٹی آئی میز پر بیٹھے،جو بھی مطالبہ ہے بات کرے۔
ان کا کہناتھا کہ مذاکرات کرنے آئیں گے تو بات آگے چلے گی، وزیراعظم نے مذاکرات کیلئے کوئی شرط نہیں رکھی، پی ٹی آئی جو بھی مطالبہ رکھے،مؤقف ہمارا اپنا ہو گا، پی ٹی آئی کا اسلام آباد پر حملہ کرنے کا حق کہاں سے بنتاہے؟ وزیراعظم کی پیشکش کے بعد سلمان اکرم نے جو بات کی،یہ بلیک میلنگ نہیں؟
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ بڑا پن ہے ورنہ وزیراعظم کو مذاکرات کی پیشکش واپس لینی چاہیے تھی، ہم اسلام آباد پر حملے کی تیاری کیوں کرائیں؟ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے ذریعے ہی 26 نومبر کی تیاری ہوئی، اداروں کیخلاف زہر اُگلنا ہے تو پھر ملاقاتیں قانون کے مطابق ہونی چاہئیں۔
مشیر وزیراعظم کا کہناتھا کہ وزیراعظم نے پارٹی لیڈر کی منظوری سے مذاکرات کی دعوت دی،پی ٹی آئی والے ہر منگل،جمعرات کو ڈرامہ لگاتے ہیں،بازنہ آئے تو حل نکالنا ہو گا، کیا پی ٹی آئی میں خیبرپختونخوا بند کرنے کی ہمت ہے؟ پی ٹی آئی تصادم اور افراتفری پھیلانے پر تلی ہے، اسلام آباد پر حملہ آور ہوں گے،مسلح ہو کرآئیں گے تو قانون کا سامنا کرنا ہو گا۔






















