لاہور ہائیکورٹ نے سنوکر کلب کے کاروبارکو جائزاور قانونی قرار دیدیا۔
جسٹس جواد ظفر نےشہری محمد راشد کی اپیل پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نےشہری کا سنوکرکلب بند کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیدیا۔
عدالت نےفیصلےمیں کہاسنوکرکلب چلانا قانونی اورتفریحی سرگرمی ہےکوئی قانون اس پر پابندی عائد نہیں کرتا،آئین کےمطابق ہرشہری کوقانونی بزنس کرنےکاحق ہے،بلیئرڈ اور سنوکر کےکھیل غیر اخلاقی نہیں،نہ ہی قانون کے تحت ممنوع ہیں،کاروبار کو مبہم شکایات پرغیرمعینہ مدت کیلئے بند نہیں کیا جا سکتا۔
درخواستگزار کےمطابق وہ سرگودھا میں سنوکرکلب چلاتا تھا،کاروبارپرمکمل پابندی عدالتی اختیارات کا غلط استعمال ہے،شوریا اوقاتِ کارکوریگولیٹ کیاجاسکتا تھا،مکمل پابندی ضروری نہیں تھی،سنوکر کلب کےذریعے عوام کوبلیرڈ گیم کھیلنے کی تفریح فراہم کی جاتی تھی
عدالتی فیصلےمیں کہاگیاکہ مخالف نےدرخواستگزار کا سنوکر کلب بند کرنے کیلئے علاقہ مجسریٹ کو درخواست دی،درخواست میں کہاگیا کہ کلب رات دیرکھلارہتا ہےاورشورغل ہوتا ہے،مجسریٹ نےسی ار پی سی سیکشن 133کے تحت سنوکر کلب بندکرنےکا حکم دیا،سنوکر کلب سیکشن سی آر پی سی کے سیکشن 133کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا،سیکشن 133 کے اختیارات صرف ہنگامی اوروقتی عوامی خلل کی صورت میں استعمال ہو سکتے ہیں،سیکشن 133 کے تحت حکم محدود اور مخصوص ہونا چاہیے، تاکہ کسی کے معاشی حقوق متاثر نہ ہوں۔
ٹرائل کورٹ نےقوانین کی درست تشریح نہیں کی،عدالت سنوکرکلب بند کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتی ہے،درخواستگزار تمام قوانین کی پاسداری کرتے ہوئےدوبارہ سنوکرکلب کھول سکتا ہے۔






















