نئے صوبوں کی تشکیل پر استحکام پاکستان پارٹی نے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا۔
صدراستحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کی زیرصدرات اجلاس ہوا،اجلاس میں استحکام پاکستان پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی عون چوہدری،گل اصغر بگھور اور منزہ حسن شریک ہوئے۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نےاجلاس میں گفتگو کرتے ہوئےکہا نئے صوبے بننےکا فائدہ عوام کے علاوہ حکمران سیاسی پارٹیوں کوبھی ہوگا،اگرسندھ میں تین صوبےبنتے ہیں توحکمران جماعت تین وزرائے اعلیٰ نامزدکرسکتی ہے،سندھ کی حکمران پارٹی تین صوبوں میں عوامی مسائل کا حل اور ترقی کا دورشروع کرسکتی ہے۔
صدرآئی پی پی نےمزید کہاتین صوبوں میں نئے آئی جی،نئے چیف سیکرٹریز اورنئے ہائی کورٹس بن سکتے ہیں،اس سے وہاں کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا اور حکومتیں گڈ گورننس کرسکیں گی،اسی طرح پنجاب میں بھی حکمران پارٹی تین سے چارمزید صوبے تشکیل دے سکتی ہے،پنجاب میں بھی حکمران جماعت کو مزید وزرائے اعلیٰ نامزد کرنے اورعوامی مسائل کے فوری حل کا موقع ملےگا،کسی صوبے کا نام تبدیل نہیں ہوگا، نئے صوبے شمالی، جنوبی، مغربی اور مشرقی صوبے کے نام سے ہونگے۔
صدر آئی پی پی نے کہا نئے صوبوں کے قیام سے ملک بھر میں لوگوں کےمسائل اُن کی دہلیز پر حل ہوں گے،بلوچستان میں کوئٹہ سے گوادر کا فاصلہ ایک ہزارکلومیٹر کے لگ بھگ ہے،دور دراز کے شہریوں کو مسائل سے نجات دلانے کیلئے مزید صوبے بنانا ہوں گے،بلوچستان کے دور انداز علاقوں میں حل طلب مسائل زیادہ ہیں،بلوچستان میں لوگوں کو صوبائی دار الحکومت پہنچنے میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں،
انہوں نےکہاکے پی کے اورپنجاب میں بھی شہریوں کی دادرسی مزید بہترکرنےکی ضرورت ہے،نئے صوبوں کا قیام درحقیقت عوامی مشکلات کے حل کی طرف درست اقدام ہوگا،ہمیں تعصب کی عینک اتار کر عوامی مشکلات حل کرنے کے بارےمیں سوچنا ہوگا،یہ قدم پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوگا،دل بڑا کریں، نئے صوبوں کی تجویز عوام کی فلاح و بہبود کے پس منظر میں دی جا رہی ہے،عبدالعلیم خان
کسی جماعت کو ایک کی بجائے تین تین وزرائے اعلیٰ مل جائیں تو اس میں کیا حرج ہے،اگر لوگوں کے مسائل زیادہ حل ہوں تو سیاسی جماعت بھی زیادہ مقبول ہو جائے گی۔






















