وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی اور این اے 18 امیدوار شہر ناز کا الیکشن کمیشن طلبی نوٹس کے خلاف کیس۔ پشاور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دونوں درخواستیں خارج کر دی۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ارشد علی کی سربراہی نے گزشتہ روز دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے آج فیصلہ سناتے ہوئے درخواستوں کو خارج کر دیا ۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ وزیر اعلی نے دھمکانہ الفاظ کا استعمال کیا،نوٹس میں 234 الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہے، وزیر اعلیٰ کے خلاف دو کاروائیاں چل رہی ہے، ایک ڈسٹرکٹ مانٹرنگ آفس اور دوسری الیکشن کمیشن کی ہے۔ الیکشن کمیشن نوٹس کو معطل کر کے انھیں حتمی کارروائی سے روکا جائے۔
جسٹس وقار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے خلاف الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی تو نہیں کی۔ جب آپ نے الیکشن کمیشن کی پروسیڈنگ جوائن کر لی تو پھر انتظار کریں۔ جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کوئی ایڈورس ایکشن کرے تب ہمارے پاس آئے۔ آپ اپنے لیے مسائل خود پیدا کرتے ہیں۔
الیکشن کمیشن وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کاروائی کا اختیار ہے۔ انتخابات کے کوڈ آف کنڈٹ پر عمل درامد کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کے اسٹاف کو دھمکانہ بھی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔ عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواستیں خارج کر دی۔






















