پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔ مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا ہے جبکہ تفتیشی ٹیم نے اہم شواہد اکھٹے کر لیے ہیں۔
پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر گزشتہ روز ہونے والے حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف درج کی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق تین موٹر سائیکل سوار دہشتگرد ہیڈکوارٹر پہنچے۔ ایک دہشتگرد نے مین گیٹ پر پہنچ کر خود کو دھماکے سے اُڑا لیا، جبکہ دو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ جائے وقوعہ سے 27 سے زائد خول برآمد ہوئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کی ابتدائی تفتیش کے مطابق تینوں حملہ آور ایک ہی موٹر سائیکل پر کوہاٹ روڈ اور سول کوارٹر کے راستے سے ہیڈکوارٹر تک پہنچے۔ موٹر سائیکل حملے سے کچھ فاصلے پر کھڑی کی گئی تھی دہشتگردوں کے پاس کلاشنکوف سمیت 8 سے زائد دستی بم موجود تھے، دہشتگردوں کے جسمانی اعضاء ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی تحویل میں لے لی گئی ہے واقعے کی تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے۔






















