مشہور سائبر سیکیورٹی اور ویب انفراسٹرکچر کمپنی Cloudflare نے منگل کو ہونے والے بڑے سروس آؤٹج کی تفصیلات جاری کردی ہیں جس کے باعث دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس گھنٹوں تک بند رہیں۔ کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او میتھیو پرنس کے مطابق یہ مسئلہ کمپنی کے بوٹ مینجمنٹ سسٹم ( Bot Management System) کے اندر پیدا ہوا جس کا مقصد خودکار ویب کرالرز پر کنٹرول رکھنا ہے۔
Cloudflare کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد انٹرنیٹ ٹریفک ان کے نیٹ ورک سے گزرتی ہے۔ ویب سائٹس کو ٹریفک پریشر اور DDoS اٹیکس سے محفوظ رکھنے کے لیے بنایا گیا یہ سسٹم اس بار ناکام ہوگیا اور کئی گھنٹے تک سروس معطل رہی۔ اس خرابی سے X (ٹوئٹر)، ChatGPT، Downdetector سمیت کئی بڑے پلیٹ فارمز متاثر ہوئے۔
پرنس کے مطابق مسئلہ کسی DNS خرابی، نئے AI ٹولز، یا سائبر حملے کے باعث نہیں تھا بلکہ یہ ایک ڈیٹابیس میں اندرونی تبدیلی کے نتیجے میں سامنے آیا۔کلاؤڈ فیئر کے بوٹ مینجمنٹ سسٹم میں موجود ’ مشین لرننگ ماڈل ‘ ہر درخواست کو ’ بوٹ سکور‘ دیتا ہے تاکہ اصل او ر خود کار ٹریفک میں فرق کیا جا سکے ، یہ ماڈل ایک کنفیگریشن فائل پر انحصار کرتا ہے جسے بار بار اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ لیکن ’ کلک ہاوس ڈیٹا بیس‘میں تبدیلی کے بعد فائل میں بار بار ’ ڈوپلیکیٹ روز‘(duplicate rows) جمع ہونے لگیں اور جلد ہی فائل کا سائز مقررہ حد سے بڑھ گیا۔
جیسے ہی فائل میموری حد سے باہر ہوئی، وہ ’ کور پراکسی سسٹم ‘ (core proxy system) جو ویب ٹریفک کو کنٹرول کرتا ہے، فیل ہونے لگا۔ نتیجے میں Cloudflare استعمال کرنے والی کئی کمپنیوں کی حقیقی ٹریفک بھی بلاک ہوگئی، جبکہ وہ صارفین جن کا سسٹم bot scores پر انحصار نہیں کرتا تھا، متاثر نہیں ہوئے۔






















