بلوچستان اسمبلی نے کم عمر کی شادیوں کے خلاف بل کثرتِ رائے سے منظور کرلیا، اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور اسپیکر ڈائس کے سامنے ہنگامہ آرائی کی، جس سے ایوان کا ماحول مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت ہوا۔ حکومتی بینچوں کی جانب سے رکن اسمبلی بخت محمد کاکڑ نے بل ایوان میں پیش کیا تو اپوزیشن نے بل کو غیر شرعی اور جلد بازی میں تیار کردہ قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان نے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی اور احتجاجاً بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
اپوزیشن لیڈر یونس زہری کا کہنا تھا کہ یہ بل نامناسب ہے اور اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
شدید شور شرابے اور احتجاج کے باوجود ایوان نے بل کو کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کا احترام کرتی ہے لیکن قانون سازی حکومت کا آئینی اختیار ہے۔
اسپیکر نے اپوزیشن کے غیر پارلیمانی الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کا حکم دیا اور اجلاس 17 نومبر تک ملتوی کردیا گیا۔






















