پاکستانی نیوز رومز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کے لیے گائیڈ لائنز متعارف کروا دی گئیں۔ یہ رہنما اصول میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی جانب سے صحافی سمٹ 2025 کے دوران پیش کیے گئے۔
سمٹ میں میڈیا ماہرین نے صحافت میں اے آئی کے اخلاقی اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ضوابط ترتیب دیے۔ یہ اقدام پاکستانی نیوز رومز میں اے آئی کے ذمہ دارانہ انضمام کے لیے پہلی مشترکہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تین روزہ صحافی سمٹ 2025 کا انعقاد یونیورسٹی آف دی پنجاب کے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیونیکیشن کے اشتراک سے کیا گیا، جسے یورپی یونین ان پاکستان اور یونیسکو کا تعاون حاصل تھا۔ صحافت میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کی یہ گائیڈ لائنز میڈیا انڈسٹری میں کام کرنے والے سینئر پروفیشنلز کے ساتھ مل کر تیار کی گئی ہیں۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے بانی اسد بیگ کے مطابق، یہ گائیڈ لائنز نیوز رومز میں اے آئی کے انضمام کے دوران شفافیت، احتساب اور صحافتی اقدار کے تحفظ میں مدد فراہم کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رہنما اصولوں کو عملی نیوز روم کے تجربات سے جوڑنا نہایت اہم ہے۔
صحافی سمٹ میں سماء ڈیجیٹل کے جنرل مینجر ڈاکٹر عاصم صدیق اور ان کی ٹیم نے چینل میں پاکستان کے سب سے پہلے منصوعی ذہانت پر مبنی نیوز روم کے بارے میں شرکاء کو آگاہی فراہم کی جوکہ اپنی مثال آپ ہے ۔جس میں جدید آر ٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کے ذریعے وائس اوور اور اینکرز کے اے آئی ورژن بنانے کا طریقہ کار بھی شامل تھا ۔

ڈاکٹر عاصم صدیق نے ایڈیٹوریل پالیسی کے مطابق چلتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے نیوز روم میں مثبت استعمال کے مختلف پہلووں کو سامنے رکھا اور میڈیا کے دیگر صحافیوں کو اس ٹیکنالوجی سے روشناس بھی کروایا ۔
ڈاکٹر عاصم صدیق نے سمٹ میں شریک طلباء کی کثیر تعداد کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے بارے میں تحفظات سوالات کی صورت میں سنے اور انہیں تفصیلی جوابات کے ذریعے مطمئن کیا جبکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے کمائی کرنے کا طریقہ کار بھی واضع کیا ۔
اس کے علاوہ انہوں نے سوشل میڈیا چینلز اور پیجز کی موناٹائزیشن سے جڑے تمام تکنیکی مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔انہوں نے یوٹیوب ، فیس بک ، ٹک ٹاک ، ویب سائٹ پر موناٹائزیشن اور نئی آنے والی پالیسیز ، گائیڈ لائنز پر بھی شرکاء کو آگاہی فراہم کی ۔

ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ اشفاق نے کہا کہ میڈیا اسٹوڈنٹس پاکستان میں صحافت کے مستقبل کے معمار ہیں، اس لیے انہیں ایسے پلیٹ فارمز فراہم کیے جا رہے ہیں جہاں وہ اے آئی سے متعلق مکالمات اور تربیتی سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔
میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی نے اعلان کیا کہ 2026 کے آغاز میں انڈسٹری مشاورت کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ پاکستانی نیوز رومز میں ان گائیڈ لائنز کے عملی نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔






















